31 مارچ 2017 - 15:34
مسئلہ کشمیر کو یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے: آغا حسن

آغا صاحب نے بھارتی حکمرانوں کی اس عوام کش پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آمریت اور طاقت کے بل پر عوامی تحریکوں کو دبایا نہیں جاسکتا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں انجمن شرعی شعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے شہر و دیہات میں گرفتاریوں، پکڑدھکڑ فورسز کے بھاری جماو اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حق و انصاف کی خاطر اٹھنے والی آواز کو دبانے کا مذموم عمل نہ ماضی میں کامیاب ہوسکا ہے اور نہ کبھی طاقت کے بل پر اس قسم کے حربے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آغا صاحب نے مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے موقعہ پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے ریاست جموں کشمیر میں ظلم و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ایک طرف نہتے عوام کو بندوقوں اور پلٹ گنوں سے مارنے اور دبانے کے لئے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈا بروئے کار لائے جارہے ہیں، نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائی جاتی ہیں، پر امن احتجاجی مظاہرین کو جیلوں اور پولیس تھانوں میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے اور دوسری طرف بھارتی فورسز کے اس ظلم و زیادتی کے خلاف بر سر احتجاج عوام کو طاقت اور تشدد کے بل پر ان سے احتجاج کا حق چھینا جا رہا ہے۔آغا صاحب نے بھارتی حکمرانوں کی اس عوام کش پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آمریت اور طاقت کے بل پر عوامی تحریکوں کو دبایا نہیں جاسکتا اور بھارتی حکمرانوں نے ایک جائز جد وجہد میں مصروف کشمیری عوام کو جس طرح بے پناہ فوجی طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور مسلمہ جمہوری اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے کشمیری عوام کو زیر کرنے کا جو عمل جاری ہے وہ حد درجہ قابل مذمت ہے۔آغا صاحب نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے انتخابی عمل کے آغاز کے ساتھ ہی مزاحمتی قیادت کیخلاف جو کریک ڈاون اور پابندیوں کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان سے انکے جمہوری دعوے اور عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔ آغاصاحب نے حکمرانوں کی جارحانہ اور آمرانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھونس اور دباو کے باوجود حریت پسند عوام کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی تلقین کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲